1876ء کا لاہور
گورنمنٹ کالج کے طالب علم پنڈت شِو نارائن کا خط
"مجھے یاد ہے ، میں جنوری 1876ء کی صبح لاہور پہنچا۔ خون جما دینے والی سردی میری منتظر تھی۔ سال کا آغاز تھا۔ جالندھر سے چلنے والی ٹرین وقت پر لاہور پہنچی۔ ریلوے اسٹیشن پر ہُو کا عالم تھا۔ مشرقی کنارے پر ایک بگھی کھڑی تھی۔ میں فوراً اس میں سوار ہو گیا۔ اس دو منزلہ گاڑی کا سفر میرے حافظے میں پوری وضاحت سے محفوظ ہے۔ اُن دنوں لاہور میں اسے "پالکی گاڑی” کہتے تھے۔ جالندھر میں اس کا رواج نہیں تھا۔
ریلوے اسٹیشن پر قلی بھی موجود تھے۔ لیکن اُن کا کام : صاحب لوگوں (انگریزوں) کا سامان اٹھانا ہوتا تھا۔ ہندوستانی اپنا بار و اعتبار خود لیے پھرتے تھے۔
گاڑی میں لاہور کا اولین مشاہدہ شروع ہوا۔ شہر اطمینان کی آغوش میں تھا۔ بگھی کچھ دیر کے لیے لنڈا بازار میں رکی۔ بازار چھوٹی چھوٹی دکانوں پر مشتمل تھا۔ جن پر صاف اور باریک شامیانے تانے گئے تھے۔ لاہور کا لنڈا بازار پورے ہندوستان میں معروف ہے۔
گاڑی نے مجھے یکّی دروازے پر اتار دیا۔ اس علاقے میں طالب علموں کے لیے معقول اور سستی اقامت گاہوں کا بند و بست تھا۔ ضروری معاملات کی انجام دہی کے بعد میں رحیم خان کی کوٹھی پہنچ گیا۔ یہ دو دن بعد کا قصہ ہے۔ اُن دنوں گورنمنٹ کالج رحیم خان کی کوٹھی میں ہوا کرتا تھا۔ کچھ لوگ اسے رحیم خان کا بنگلہ بھی کہتے ہیں۔ یہ جگہ بھاٹی دروازے سے زیادہ دور نہیں ہے۔
بنگلے کے آس پاس درختوں کے گھنے جھنڈ موجود تھے۔ دریا بھی زیادہ دور نہ تھا۔ رحیم خان کی حویلی تا حال موجود ہے۔ حویلی کے پہلو میں طبّی جراحت کے دو ہال واقع تھے۔ اس علاقے کے گھر اپنے چوبی جھروکوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔
گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سٹولپنیگل بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا مضمون مابعدالطبیعات تھا۔ وہ فلسفیانہ مباحث کی نفسیاتی توجیہات بیان کرنے کے ماہر تھے۔ پہلے دن انھوں نے مجھ سے ایسی حکیمانہ گفت گو فرمائی کہ میں مرعوب ہو گیا۔ ان کی آنکھوں میں پدرانہ شفقت چمکتی تھی۔ بات بات میں شیکسپیئر کا حوالہ دیتے۔ لڑکوں کو گھر بلاتے اور کھانا کھلاتے۔ موسم خوش گوار ہوتا تو اپنی ٹیلی سکوپ سے ستاروں کا نظارہ بھی کرواتے تھے۔ کالج کے تقریباً سبھی لڑکے (جن کی تعداد چالیس پینتالیس تھی) ہاسٹلوں میں مقیم تھے۔ ڈاکٹر سٹولپنیگل نے لڑکوں کے اندر فلسفے کا پاکیزہ ذوق پیدا کر دیا تھا۔
مشرقی ادبیات کے دو استادوں کی ہر دلعزیزی محاورہ تھی۔ پنڈت بھگوان داس سنسکرت کے اور شمس العلما مولوی محمد حسین آزاد فارسی کے رتن تھے۔ ان دونوں صاحبان نے علم و حکمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے : دونوں علماء ،ہفتے میں ایک دن طالب علموں کو چائے پلاتے اور نئے نئے موضوعات پر بحث کرتے۔ سعدی اور کالی داس کا تذکرہ ہوتا۔ گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے آم اور دوسرے پھلوں کی پارٹی ہوتی۔ جس میں دونوں استاد شریک ہوتے۔
اُن دنوں کا لاہور قرار اور مسرت کی ایسی پناہ گاہ تھا ، جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
شِو نرائن
فروری 1910ء”
(مترجم : ارسلان راٹھور)
